خطرے والے گروہوں میں شامل افراد

Elderly man sitting in a chair talking to a woman

کیا کرونا وائرس کچھ گروہوں کے لیے زیادہ خطرناک ہے؟

کچھ گروہوں کے لیے شدید بیماری کا خطرہ زیادہ ہے لہذا یہ اہم ہے کہ یہ گروہ انفیکشن سے بچاؤ کے لیے ہدایات پر عمل کریں۔ پھر بھی، خطرے سے دوچار گروہوں میں بھی اکثر لوگوں کی علامات معمولی ہوتی ہیں۔

عمر کے ساتھ اور پہلے سے لاحق دوسری بیماریوں کے ساتھ شدید بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور مردوں کے لیے عورتوں کی نسبت خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ جن کم عمر لوگوں میں خطرہ بڑھانے والے عوامل معلوم نہ ہوں، ان کی بیماری بھی شدید ہو سکتی ہے۔ اگر انہیں دوسری بیماریاں لاحق ہوں تو ان کے لیے شدید بیماری کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

معاشرے میں انفیکشن کے زیادہ پھیلاؤ کے دوران ان لوگوں کو زیادہ بچ کر زندگی گزارنی چاہیے جو خطرے سے دوچار گروہوں میں ہیں۔

کم، درمیانہ یا زیادہ خطرہ؟

خطرے کا جائزہ گروہوں کی سطح پر لیا جاتا ہے نہ کہ افراد کی سطح پر۔ گروہوں کے بیچ افراد میں بہت فرق ہو گا۔ ضرورت ہونے پر ڈاکٹر کے مشورے سے انفرادی غور کیا جائے گا کہ شدید بیماری کا خطرہ کس حد تک ہے۔

وہ گروہ جن کے لیے خطرہ کم یا درمیانی حد تک بڑھتا ہے

  • 65 – 69 سال عمر یا
  • 50 – 64 سال عمر اور مندرجہ ذیل دائمی بیماریوں میں سے کوئی بیماری:
    • جگر کی دائمی بیماری
    • مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والا علاج جیسے آٹو امیون بیماریوں کا علاج
    • دل اور خون کی نالیوں کے امراض (سنبھلے ہوئے ہائی بلڈ پریشر کے علاوہ)
    • سٹروک
    • موٹاپا (35kg/m2 سے زیادہ باڈی ماس انڈیکس)
    • ذیابیطس
    • گردوں کی دائمی بیماری اور گردوں کا کمزور فعل
    • پھیپھڑوں کی دائمی بیماری (سنبھلے ہوئے دمے کے علاوہ)
    • ڈیمینشیا

50 سال سے کم عمر کے افراد کے لیے COVID-19 سے شدید بیمار ہو جانے کا خطرہ کم ہے لیکن بعض افراد کے لیے خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے جن کی بیماریوں کو ٹھیک سے سنبھالا نہ جا رہا ہو یا جنہیں کئی دوسری بیماریاں ایک ساتھ ہوں۔

زیادہ خطرے سے دوچار گروہ

  • 70 سال سے زیادہ عمر یا
  • نرسنگ ہوم کے رہائشی یا:
  • بعض شدید طبی مسائل، چاہے عمر کچھ بھی ہو
    • اعضا کا عطیہ
    • مدافعتی نظام کی کمزوری
    • پچھلے پانچ سالوں میں ہیماٹولوجک کینسر کی بیماری
    • ایکٹیو کینسر، کینسر کا علاج (بالخصوص مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والا علاج، پھیپھڑوں کی ریڈیئیشن یا کیموتھراپی) جو جاری ہو یا حال ہی میں ختم ہوا ہو۔ کینسر کی دوسری قسموں کی نسبت خون کا کینسر خطرہ زیادہ بڑھاتا ہے۔
    • نیورولوجیکل (اعصابی) بیماریاں یا پٹھوں کی بیماریاں جن کے نتیجے میں کھانسنے کی طاقت یا پھیپھڑوں کا فعل کم ہو جاتا ہے (جیسے ALS، سیریبرل پالزی، ڈاؤن سنڈروم)
    • ڈاؤن سنڈروم
    • گردوں کی دائمی بیماری اور گردوں کا کمزور فعل

خطرے سے دوچار گروہوں کے لوگوں اور ان کے لواحقین کے لیے عمومی مشورے

یہ یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس ضروری دوائیاں موجود ہوں۔ مستقل لی جانے والی دوائیاں لیتے رہیں اور صرف ڈاکٹر کے مشورے سے تبدیلی کریں۔

  • اگر آپ کی صحت کے چیک اپ اور معائنے طے ہوں تو آپ کو یہ کروانے چاہیئں، سوائے اس کے کہ آپ کے معالج نے آپ کو کوئی اور ہدایت دی ہو۔ اگر آپ ٹھیک سے نہ جانتے ہوں تو اپنے معالج سے رابطہ کریں۔
  • ہاتھوں کی اچھی صفائی اور کھانستے ہوئے حفظان صحت کا خیال رکھیں۔ یہ ہدایت آپ کے ساتھ رہنے والوں اور آپ سے ملنے والوں کے لیے بھی ہے۔ باقاعدگی سے گھر میں صفائی کریں، خاص طور پر ان سطحوں کی صفائی کریں جنہیں آپ اکثر چھوتے ہیں۔
  • کام پر، باہر اور آپ جن دوسری جگہوں پر وقت گزاریں، وہاں لوگوں سے فاصلہ رکھیں۔
  • پیدل چلنے کے ذریعے چست و توانا رہنا اچھا ہے لیکن ایسی جگہیں چنیں جہاں زیادہ لوگ نہ ہوں۔
  • ان لوگوں کے ساتھ وقت نہ گزاریں جنہیں نظام تنفّس کی علامات پیش ہوں۔
  • اگر ممکن ہو تو پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال محدود رکھیں، خاص طور پر رش والے اوقات میں۔

لواحقین کے لیے عمومی مشورے

خطرے سے دوچار گروہوں کے لوگوں کے لواحقین کے لیے عمومی مشورے:

  • خطرے سے دوچار لوگوں سے رابطے میں رہیں۔
  • حفظان صحت کی ہدایات اور دوسرے اقدامات پر عمل کریں تاکہ آپ کو انفیکشن لگنے کا خطرہ کم رہے۔
  • اگر آپ کو نظام تنفّس کی علامت پیش ہوں یا آپ کی طبیعت ٹھیک نہ ہو تو خطرے سے دوچار گروہوں کے لوگوں سے نہ ملیں۔
  • ان کے باہر کے ضروری کام کر دینے کی پیشکش کریں۔
  • اگر آپ خطرے سے دوچار لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں اور آپ میں نظام تنفّس کی علامات ظاہر ہوں یا آپ کی طبیعت ٹھیک نہ ہو تو آپ کو ان لوگوں کے ساتھ واسطہ محدود کرنا ہو گا۔ ہمارا مشورہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو آپ ان سے الگ کمرے میں رہیں، الگ کمرے میں سوئیں اور الگ غسلخانہ اور ٹائلٹ استعمال کریں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ اہم ہے کہ فاصلہ رکھا جائے اور آپ کے اور ان کے تولیے الگ الگ ہوں اور غسلخانے اور ٹائلٹ میں استعمال کی چیزیں الگ الگ ہوں۔  

اگر آپ بیمار ہو جائیں تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کی طبیعت خراب ہو جائے اور آپ کے خیال میں آپ کو کرونا وائرس انفیکشن ہونے کا امکان ہو تو نظام صحت سے جلد رابطہ کریں۔ اگر آپ میں بخار اور کھانسی جیسی علامات ظاہر ہو جائیں، آپ کو سانس لینے میں مشکل ہو اور عمومی حالت ٹھیک نہ ہو تو ٹیسٹ کروانے کے لیے مقامی ہیلتھ سروس سے رابطہ کریں۔

اگر آپ میں دوسری شدید علامات ظاہر ہو جائیں جن کے لیے آپ ویسے ڈاکٹری مدد لیتے تو نظام صحت سے رابطہ کرنا اہم ہے، چاہے آپ کو انفیکشن ہو یا نہ ہو۔

کیا خطرے سے دوچار گروہوں کے افراد کو علاج بدلنا چاہیے؟

اگر آپ کی صحت کے چیک اپ اور معائنے طے ہوں تو آپ کو یہ کروانے چاہیئں۔ ہم مشورہ دیتے ہیں کہ آپ جو دوائیاں لے رہے ہوں، انہیں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر نہ بدلیں۔ یہ اہم ہے کہ بنیادی بیماری کو اچھی طرح سنبھالا جائے اور اس کا علاج کیا جائے۔ اگر اپنے علاج کے متعلق آپ کا کوئی سوال ہو تو اپنے فیملی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

خطرے سے دوچار گروہوں کے جو لوگ ویکسین لگوا چکے ہیں، ان کے لیے مشورے:

جب آپ کی ویکسینیشن مکمل ہو جائے تو آپ بڑی حد تک COVID-19 اور اس کی وجہ سے شدید بیماری سے محفوظ ہوں گے لہذا آپ زیادہ نارمل انداز میں زندگی گزار سکتے ہیں۔ ویکسینیشن مکمل ہونے کے بعد پورا اثر ہونے میں 1 سے 2 ہفتے لگتے ہیں۔ فی الحال ہم نہیں جانتے کہ یہ تحفظ کتنا عرصہ برقرار رہتا ہے۔ اگر وقت کے ساتھ ساتھ تحفظ کم ہو جائے تو بوسٹر ڈوزیں (دوبارہ ویکسینیشن) ضروری ہو سکتی ہیں۔ ویکسین لگوانے والے افراد کو انفیکشن سے بچاؤ کے عام اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔

خطرے سے دوچار گروہوں اور ویکسین کے متعلق مزید تفصیل پڑھیں (FHI)

 خطرے سے دوچار گروہوں میں شامل بچے اور نوجوان

تجربے سے دیکھا گیا ہے کہ بچوں میں COVID-19 کی وجہ سے شدید بیماری کم واقع ہوتی ہے اور ہسپتال میں داخلے کی ضرورت شاذونادر پڑتی ہے۔ دائمی بیماریوں میں مبتلا بچوں کے سلسلے میں بھی ایسا ہی ہے۔

دنیا بھر میں بچوں میں COVID-19 کی وجہ سے بہت کم اموات رپورٹ کی گئی ہیں اور صحتمند بچوں کی اموات شاذونادر ہیں۔

خطرے سے دوچار گروہوں میں شامل بچوں کے لیے سکول اور بارنے ہاگے

شدید بیماری میں مبتلا بعض بچوں کے لیے خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے اور ایسے بچوں کے لیے بارنے ہاگے میں خصوصی موزوں انتظام اور سکول میں خصوصی موزوں تعلیم پر غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بنیادی طور پر شاذونادر اور شدید بیماریوں میں مبتلا بچوں کے لیے کہی جا رہی ہے۔