خطرے والے گروہوں میں شامل افراد

Elderly man sitting in a chair talking to a woman

Illustrasjon: Johner/Maskot Bildbyrå AB

کیا کرونا وائرس کچھ گروہوں کے لیے زیادہ خطرناک ہے؟

کچھ گروہوں کے لیے شدید بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے یہ اہم ہے کہ یہ گروہ انفیکشن سے بچاؤ کی ہدایات پر عمل کریں۔ پھر بھی خطرے سے دوچار گروہوں کے اکثر لوگوں میں بھی بیماری کی علامات ہلکی ہوتی ہیں۔

شدید بیماری کا خطرہ عمر کے ساتھ اور دوسرے امراض لاحق ہونے کے ساتھ بڑھتا ہے اور مردوں کے لیے خطرہ عورتوں کی نسبت زیادہ ہے۔ ان جوان لوگوں کے لیے بھی بیماری شدید ہو سکتی ہے جن کے بارے میں خطرے کے کوئی عوامل معلوم نہیں ہیں۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ انہیں دوسرے امراض لاحق ہونے کی صورت میں ہی ایسا ہوتا ہے۔

جب معاشرے میں انفیکشن کا پھیلاؤ زیادہ ہو تو خطرے سے دوچار گروہوں کے افراد کو زیادہ الگ رہ کر میں زندگی گزارنی چاہیے۔

کم، درمیانہ یا زیادہ خطرہ

خطرے کی سطح گروہوں کے لیے طے کی جاتی ہے نہ کہ ہر فرد کے لیے۔ گروہوں کے اندر افراد کے درمیان بہت زیادہ فرق ہو گا۔ ضرورت ہونے پر ڈاکٹر کے ساتھ مشورہ کر کے انفرادی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ شدید بیماری کا خطرہ کس حد تک ہے۔

وہ گروہ جن کے لیے خطرہ کم یا درمیانی حد تک بڑھتا ہے

  • عمر 66 – 80 سال (بالخصوص 70 سال اور اس سے زیادہ) یا
  • عمر 50 – 65 سال اور مندرجہ ذیل دائمی امراض میں سے کوئی مرض:
    • دل اور خون کی نالیوں کے امراض (سوائے سنبھلے ہوئے بلڈ پریشر کے)
    • سٹروک
    • موٹاپا (باڈی ماس انڈیکس ≥ 35kg/m2)
    • ذیابیطس
    • گردوں کی دائمی بیماری اور گردے کا کمزور فعل
    • پھیپھڑوں کی دائمی بیماری (سوائے سنبھلے ہوئے دمے کے)
    • جگر کی دائمی بیماری
    • مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والا علاج جیسے آٹو امیون بیماریوں کا علاج
    • ڈیمینشیا

50 سال سے کم عمر کے افراد کے لیے COVID-19 سے شدید بیمار ہونے کا خطرہ کم ہے لیکن بعض افراد جن کی دوسری بیماریاں سنبھلی ہوئی نہ ہوں یا کئی دوسری بیماریاں ایک ساتھ ہوں، ان کے لیے زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔

زیادہ خطرے سے دوچار گروہ

  • عمر 80 سال سے زیادہ، یا
  • نرسنگ ہوم میں رہائش، یا
  • بعض سنگین طبی کیفیات، چاہے عمر کچھ بھی ہو:
    • ایکٹیو کینسر، کینسر کا علاج (بالخصوص مدافعتی نظام کو دبانے والا علاج، پھیپھڑوں کی ریڈیئیشن تھراپی یا کیمو تھراپی) جو اس وقت جاری ہو یا حال ہی میں ختم ہوئی ہو۔ خون کے کینسر کی وجہ سے دوسری قسموں کے کینسر کی نسبت خطرہ زیادہ بڑھتا ہے۔
    • نیورولوجیکل (عصبی) امراض یا پٹھوں کی بیماریاں جن کی وجہ سے کھانسنے کی قوت یا پھیپھڑوں کے فعل میں کمی آتی ہے (جیسے ALS، سیریبرل پالزی، ڈاؤنز سنڈروم)
    • پیدائشی کمزور مدافعتی نظام کا غیرمتوازن مرحلہ جس کی وجہ سے نظام تنفّس کے شدید انفیکشنوں کا خطرہ ہوتا ہے
    • خون کی بیماریاں جو ایسے خلیات یا اعضا سے تعلق رکھتی ہوں جو مدافعتی نظام کے لیے اہم ہیں
    • سٹیم سیلز ٹرانسپلانٹ (ہڈیوں کے گودے میں سے خلیات کا عطیہ) یا اعضا کا عطیہ
    • کم CD4-tal کے ساتھ ايچ آئی وی انفیکشن
    • گردے یا جگر کا بہت کمزور فعل
    • کوئی اور وجہ، ڈاکٹر کی رائے کے مطابق

خطرے کی بنیاد پر انفیکشن سے بچاؤ کے لیے ہدایات

  • خطرے میں کم/درمیانی حد تک اضافہ اور معاشرے میں انفیکشن کا کم پھیلاؤ

جب انفیکشن کا پھیلاؤ کم ہو تو خطرے میں کم اضافے سے دوچار گروہ بالعموم معاشرے کے باقی لوگوں جیسی زندگی گزار سکتے ہیں: سفر، ملازمت اور پروگراموں میں شرکت کے سلسلے میں۔ پھر بھی عام ہدایات پر عمل کرنے کا بہت خیال رکھیں جو یہ ہیں:

  • اپنے قریبی لوگوں کے علاوہ باقی سب سے مجوزّہ فاصلہ رکھیں
  • ہاتھوں کی صفائی اور کھانستے ہوئے حفظان صحت کا بہت خیال رکھیں
  • بیمار ہونے کی صورت میں گھر میں رہیں

سوشل سرگرمیوں میں شریک ہونے سے پہلے سوچ لیں کہ کیا آپ ہدایات پر عمل کر سکیں گے۔

  • خطرے میں کم/درمیانی حد تک اضافہ اور معاشرے میں انفیکشن کا زیادہ پھیلاؤ

انفیکشن کے زیادہ پھیلاؤ کی صورت میں خطرے میں کم اضافے سے دوچار گروہوں کو زیادہ الگ رہ کر زندگی گزارنی چاہیے۔ آپ اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں لیکن مشورہ ہے کہ آپ ان کم عمر افراد اور بالغوں سے 2 میٹر کا فاصلہ رکھیں جو ایسے مواقع پر رہے ہیں جہاں انہوں نے دوسروں سے ایک میٹر فاصلہ نہیں رکھا۔

قریبی واسطوں کی تعداد محدود رکھیں۔ ایسی جگہوں پر نہ جائیں جہاں زیادہ لوگ جمع ہوں جیسے پبلک ٹرانسپورٹ اور شاپنگ سنٹر، یا وہاں ایسے وقت میں جائیں جب وہاں کم لوگ ہوں اور زیادہ جگہ ہو۔ کام کی جگہ پر موزوں انتظامات کرنا بھی مناسب ہو سکتا ہے۔

  • خطرے میں زیادہ اضافہ اور معاشرے میں انفیکشن کا کم پھیلاؤ

انفیکشن کے کم پھیلاؤ کی صورت میں خطرے میں درمیانے یا زیادہ اضافے سے دوچار گروہوں کو زیادہ الگ رہ کر زندگی گزارنی چاہیے۔ آپ اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ عام معمول کی طرح وقت گزار سکتے ہیں، سفر کر سکتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ میل جول رکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ اور آپ کے قریبی لوگ ہاتھوں کی صفائی اور کھانسنے کے سلسلے میں عام ہدایات کا خاص خیال رکھیں۔ قریبی واسطوں کی تعداد محدود رکھیں۔

ایسی جگہوں پر نہ جائیں جہاں زیادہ لوگ جمع ہوں جیسے پبلک ٹرانسپورٹ اور شاپنگ سنٹر، یا وہاں ایسے وقت میں جائیں جب وہاں کم لوگ ہوں اور زیادہ جگہ ہو۔ کام کی جگہ پر موزوں انتظامات کرنا بھی مناسب ہو سکتا ہے۔

  • خطرے میں زیادہ اضافہ اور معاشرے میں انفیکشن کا زیادہ پھیلاؤ

انفیکشن کے زیادہ پھیلاؤ کی صورت میں خطرے میں درمیانے یا زیادہ اضافے سے دوچار گروہوں کو محفوظ ہو کر زندگی گزارنی چاہیے۔ اگر آپ درمیانے یا زیادہ خطرے سے دوچار گروہ میں ہیں تو آپ کو اس دور میں انفیکشن سے بچنے کے لیے دوسروں سے الگ رہنا چاہیے۔ آپ پیدل چلنے جا سکتے ہیں اور اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ عام تعلق رکھ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ بھی دوسروں سے الگ ہو کر زندگی گزار رہے ہوں اور صحتمند ہوں۔

آپ کو ان کم عمر افراد اور بالغوں سے 2 میٹر کا فاصلہ رکھنا چاہیے جو ایسے مواقع پر رہے ہیں جہاں انہوں نے دوسروں سے ایک میٹر فاصلہ نہیں رکھا۔ آپ کو ہاتھوں کی صفائی اور کھانسنے کے سلسلے میں ہدایات پر عمل کرنے کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

اس کے علاوہ آپ کو خریداری کے لیے مدد حاصل کرنی چاہیے۔ اگر آپ کے قریبی لوگ روزانہ کئی لوگوں سے ملتے ہوں تو آپ کو ان سے دو میٹر فاصلہ رکھنا چاہیے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی اور عارضی قیامگاہ پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اگر کام پر موزوں انتظامات کرنا ممکن نہ ہو تو آپ کو کام سے رخصت لینے پر غور کرنا چاہیے۔

کیا خطرے سے دوچار گروہوں کے لوگوں کو علاج بدلنا چاہیے؟

اگر آپ کی صحت کے معائنے اور سکین یا ٹیسٹ وغیرہ طے ہیں تو آپ کو ان کے لیے جانا چاہیے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ دوائیوں سے جو علاج جاری ہو، اسے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ بدلا جائے۔ یہ اہم ہے کہ بنیادی بیماری کو بخوبی سنبھالا جائے اور علاج کیا جائے۔ اگر اپنے علاج کے بارے میں آپ کا کوئی سوال ہو تو اپنے فیملی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

خطرے سے دوچار گروہوں کے جو افراد ویکسین لگوا چکے ہیں، ان کے لیے ہدایات

جب آپ کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہو تو آپ کو COVID-19 اور شدید بیماری کے خلاف بڑی حد تک تحفظ مل جائے گا لہذا آپ زیادہ نارمل زندگی گزار سکیں گے۔ ویکسین کا مکمل اثر ویکسینیشن پوری ہونے کے 1 سے 2 ہفتوں بعد ہوتا ہے۔ فی الحال ہم نہیں جانتے کہ تحفظ کتنا عرصہ برقرار رہتا ہے۔ اگر تحفظ وقت کے ساتھ ساتھ کم ہو جاتا ہے تو بوسٹر (نئی) ڈوزیں لگانا ضروری ہو سکتا ہے۔ ویکسین لگوانے والے افراد کو انفیکشن سے بچاؤ کے عام اصولوں پر عمل کرنا ہو گا۔

خطرے سے دوچار گروہوں اور ویکسین کے متعلق مزید تفصیل پڑھیں (FHI)

خطرے سے دوچار گروہوں میں بچے اور نوجوان

تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ بچے کم ہی COVID-19 سے شدید بیمار ہوتے ہیں اور ہسپتال میں داخلے کی ضرورت بہت کم پیش آتی ہے۔ یہ بات دائمی بیماریوں میں مبتلا بچوں کے لیے بھی درست ہے۔

دنیا بھر میں COVID-19 کی وجہ سے بچوں کی اموات کی رپورٹیں بہت کم ہیں اور صحتمند بچوں کی موت کے کیس شاذونادر ہیں۔

خطرے سے دوچار گروہوں کے بچوں کے لیے سکول اور بارنے ہاگے

شدید بیماری میں مبتلا بعض بچے زیادہ غیر محفوظ ہو سکتے ہیں اور ان کے سلسلے میں بارنے ہاگے میں موزوں انتظام یا سکول میں موزوں تعلیم پر غور کیا جا سکتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ان بچوں کے لیے کہا جا رہا ہے جنہیں بہت کم پائی جانے والی اور سنگین بیماریاں لاحق ہیں۔