ناروے میں کرونا وائرس کے متعلق اردو میں معلومات

نارویجن حکام کی طرف سے ناروے میں کرونا وائرس کی صورتحال کے لیے اصولوں، ہدایات اور مشوروں کے متعلق اردو میں معلومات

کیا COVID-19  کے متعلق آپ کا کوئی سوال ہے؟ صحت کی ڈائریکٹوریٹ کی معلوماتی فون لائن اب اردو میں دستیاب ہے!

815 55 015 پر کال کریں، پھر #9+5 ڈائل کریں۔

ٹیسٹنگ اور علامات

کرونا وائرس کی علامات

کرونا وائرس کی علامات بخار، کھانسی، سانس لینے میں مشکل، سر میں درد، سستی، سونگھنے یا چکھنے کی حسّ میں کمی اور پٹھوں میں درد ہو سکتی ہیں۔ کچھ صورتوں میں گلے میں درد یا خراش، ناک بہنے یا ناک بند ہونے اور چھینکیں آنے کی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔

اگر آپ یقین سے نہ جانتے ہوں کہ آپ کی علامات کرونا وائرس ہیں یا نہیں تو آپ کو اپنا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

اگر مجھے علامات پیش ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟

  • اگر آپ بیمار ہوں تو گھر میں رہیں۔
  • اگر آپ کو کرونا وائرس کی علامات پیش ہوں تو اپنا ٹیسٹ کروائیں۔
  • اگر آپ بیمار ہوں اور آپ کو ڈاکٹر کی مدد درکار ہو یا ڈاکٹر کے مشورے کی ضرورت ہو تو اپنے فیملی ڈاکٹر سے فون پر یا الیکٹرانک ذریعے سے رابطہ کریں۔

ٹیسٹ کہاں کروایا جا سکتا ہے؟

ٹیسٹنگ کی ذمہ داری بلدیات پر ہے۔ آپ جس بلدیہ میں رہتے ہیں، اس کی ویب سائیٹ پر پڑھ کر معلوم کریں کہ وہاں آپ ٹیسٹ کیسے کروا سکتے ہیں۔

اپنی بلدیہ کی ویب سائیٹ تلاش کریں  

آپ کو کب ٹیسٹ کروانا چاہیے؟

وہ سب لوگ جنہیں خود کو COVID-19  انفیکشن ہونے کا شک ہو، انہیں اپنا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

ان لوگوں کا ٹیسٹ ہونا چاہیے:

  • وہ سب لوگ جن میںCOVID-19  کی علامات ہوں۔
  • وہ سب لوگ جن کاCOVID-19  کے کسی مریض سے قریبی واسطہ رہ چکا ہو۔
  • جن لوگوں کو «Smittestopp» ایپ سے اطلاع ملی ہو کہ انہیں غالباً انفیکشن سے واسطہ پڑ چکا ہے، انہیں ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
  • جن کے بارے میں ڈاکٹر کی رائے ہو کہ ان کا ٹیسٹ ہونا چاہیے۔

آپ کے لیے کب ٹیسٹ کروانا ضروری ہے؟

ان لوگوں کے لیے کرونا وائرس ٹیسٹ کروانا ایک قانونی حکم ہے:

  • وہ سب لوگ جو کوارنٹین میں ہیں اور جن میںCOVID-19  کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے بھی لازمی ہے جو محفوظ ہیں یا جن کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے۔
  • ناروے آنے والے وہ سب لوگ جو پچھلے 10 دنوں میں سرخ ممالک یا علاقوں میں وقت گزار چکے ہیں۔

جب آپ ٹیسٹ کے نتیجے کا انتظار کر رہے ہوں

جس دوران آپ کرونا وائرس ٹیسٹ کے نتیجے کا انتظار کر رہے ہوں، آپ منفی نتیجہ آنے تک کوارنٹین میں رہیں گے۔

جس دوران آپ نتیجے کا انتظار کر رہے ہوں، آپ کے گھر میں رہنے والوں کو بھی تب تک کوارنٹین میں رہنے کو کہا جائے گا جب تک آپ کے ٹیسٹ کا منفی نتیجہ نہ آ جائے۔

اگر آپ نے کوارنٹین میں رہتے ہوئے  ٹیسٹ کروایا ہے اور آپ میں علامات ظاہر ہوئی ہیں تو آپ ٹیسٹ کا نتیجہ آنے تک آئسولیشن میں (سب سے الگ ہو کر) رہیں گے۔

کوارنٹین اور آئسولیشن

انفیکشن کوارنٹین

 اگر آپ کا کرونا وائرس انفیکشن میں مبتلا کسی شخص سے قریبی واسطہ رہا ہو تو آپ کو 10 دن کوارنٹین میں رہنا ہو گا لیکن آپ 7 دن بعد ٹیسٹ کے نتیجے کی بنیاد پر کوارنٹین ختم کر سکتے ہیں۔ کوارنٹین تب سے شروع ہوتی ہے جب آخری بار آپ کا واسطہ انفیکشن میں مبتلا شخص سے ہوا۔ انفیکشن کوارنٹین میں رہنے کے دوران اپنا ٹیسٹ کروائیں۔ اگر آپ انفیکشن میں مبتلا شخص کے قریبی کانٹیکٹ ہیں تو انفیکشن ٹریسنگ ٹیم بھی آپ سے رابطہ کرے گی۔ پھر آپ کو یہ معلومات مل سکتی ہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔

آپ تب قریبی کانٹیکٹ قرار پاتے ہیں جب انفیکشن میں مبتلا شخص کو انفیکشن کی اولّین علامات محسوس ہونے سے پہلے کے 48 گھنٹوں میں آپ کا اس سے واسطہ رہا ہو۔

قریبی واسطہ اسے کہا جاتا ہے کہ:

  • آپ 15 منٹ سے زیادہ وقت کے لیے اس شخص سے 2 میٹر سے کم فاصلے پر رہے ہوں، یا
  • آپ کا اس سے براہ راست جسمانی واسطہ رہا ہو، یا
  • آپ کا اس کی جسمانی رطوبتوں (جیسے تھوک، ناک کے مواد اور آنسوؤں) سے براہ راست واسطہ رہا ہو

اگر انفیکشن میں مبتلا اس شخص کو علامات پیش نہ ہوں تو اس شخص کا مثبت ٹیسٹ لیے جانے سے پہلے کے 48 گھنٹوں میں آپ کے اس سے واسطے کی صورت میں آپ کو قریبی کانٹیکٹ قرار دیا جاتا ہے۔

انفیکشن کوارنٹین کے عرصے میں رہنے کے لیے مناسب جگہ

آپ اپنے گھر میں یا کسی اور ایسی جگہ کوارنٹین پوری کریں گے جو کوارنٹین کے مقصد سے مناسب ہو۔ وہاں دوسرے لوگوں سے واسطے سے بچنا ممکن ہونا چاہیے اور آپ کے پاس الگ کمرہ، الگ غسلخانہ اور الگ باورچی خانہ یا کھانا منگوانے کا انتظام ہونا ضروری ہے۔

آپ ایسی جگہ کوارنٹین کا عرصہ نہیں گزاریں گے جہاں آپ کو اپنے قریبی افراد کےعلاوہ دوسروں کے ساتھ مل کر ٹائلٹ، باورچی خانہ یا دوسرے کمرے یا سہولیات استعمال کرنی پڑیں۔ جن جگہوں پر کوارنٹین کی اجازت نہیں، ان کی مثالیں کیمپنگ کاروان یا ٹریلر، کیمپنگ ایریا میں خیمہ یا کاٹیج، ہاسٹل اور مشترکہ غسلخانے یا باورچی خانے والی دوسری رہائشگاہیں ہیں۔

اگر آپ کے لیے دوسروں کو انفیکشن کے خطرے سے بچاتے ہوئے اپنے گھر میں کوارنٹین پوری کرنا مشکل ہو تو کچھ بلدیات کوارنٹین کے عرصے میں رہنے کے لیے قیامگاہیں فراہم کرتی ہیں۔

انفیکشن کوارنٹین پوری کرنے کا طریقہ کیا ہے

 کوارنٹین کا عرصہ 10 دن ہے لیکن آپ 7 دن بعد ٹیسٹ کروا سکتے ہیں اور اگر نتیجہ منفی ہو تو آپ کو مزید کوارنٹین میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ انفیکشن میں مبتلا کسی شخص کے قریبی کانٹیکٹ ہیں تو بلدیہ آپ سے رابطہ کرے گی اور ہدایات دے گی کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔

اگر آپ انفیکشن کوارنٹین میں ہیں تو آپ:

  • اپنے گھر میں یا کسی اور مناسب قیامگاہ میں رہیں گے۔ مناسب قیامگاہ سے مراد یہ ہے کہ گھر میں دوسرے بالغوں سے واسطے سے بچنا ممکن ہونا چاہیے، آپ کے پاس الگ کمرہ، الگ غسلخانہ اور الگ باورچی خانہ یا کھانا منگوانے کا انتظام ہونا چاہیے۔
  • گھر میں رہنے والے دوسرے بالغوں سے فاصلہ رکھیں گے۔
  • کام پر، سکول یا چھوٹے بچوں کے نگہداشتی ادارے میں نہیں جائیں گے۔
  • ناروے کے اندر دوسری جگہوں کا سفر نہیں کریں گے۔
  • ایسی جگہوں پر موجود نہیں  ہوں گے جہاں دوسرے لوگوں سے فاصلہ رکھنا مشکل ہو۔
  • پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کریں گے (سوائے اس کے کہ آپ بیرون ملک سے آ رہے ہوں اور سیدھے کوارنٹین کے مقام پر جا رہے ہوں، یا جب آپ کوارنٹین مکمل کرنے کے بعد ناروے سے رخصت ہو رہے ہوں۔ اس سفر میں 12 سال سے زیادہ عمر کے سب افراد چہرے پر ماسک پہنیں گے۔)
  • دکانوں، فارمیسی اور کیفے جیسے عوامی مقامات پر نہ جائیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی دوسرا حل نہ ہو تو آپ ضروری کام کے لیے دکان یا فارمیسی پر جا سکتے ہیں۔ دوسرے لوگوں سے زیادہ فاصلہ ضرور رکھیں۔
  • ملاقاتیوں کو اپنے یہاں نہ آنے دیں۔ بچے گھر میں موجود دوسرے بچوں کے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں کھیلیں گے۔

آپ باہر پیدل چلنے جا سکتے ہیں لیکن دوسروں سے زیادہ فاصلہ رکھیں۔ بچوں اور نوجوانوں کو کھیلنے اور باہر نکلنے کا موقع ملنا چاہیے اور یہ اہم ہے کہ آپ دن میں کم از کم ایک بار بچوں کے ساتھ باہر جائیں۔

کوارنٹین میں رہنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ آپ کو علامات نہ ہونے کے باوجود انفیکشن ہو سکتا ہے۔ اس لیے آپ کو خاص خیال رکھنا ہوگا کہ کہیں آپ سے دوسروں کو انفیکشن نہ لگ جائے۔ انفیکشن ٹریسنگ کی ضرورت پڑنے پر یہ عمل آسان بنانے کے لیے مشورہ ہے کہ آپ ان لوگوں کی تعداد محدود رکھیں جن کے ساتھ آپ وقت گزارتے ہیں اور جو آپ کے قریبی کانٹیکٹ ہیں۔

جو لوگ ویکسین لگوا چکے ہیں، ان کے لیے اصول

 اگر آپ کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے تو آپ کو انفیکشن میں مبتلا کسی شخص سے قریبی واسطے کے بعد انفیکشن کوارنٹین میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اصول آخری ڈوز کے ایک ہفتے بعد سے شروع ہوتا ہے۔

اگر آپ کو ویکسین کی صرف پہلی ڈوز لگی ہے جو 3 سے 15 ہفتے پہلے لگی تھی تو آپ انفیکشن میں مبتلا کسی شخص سے قریبی واسطے کے بعد 3 سے 7 دنوں کے درمیان اپنا ٹیسٹ کروا کے کوارنٹین سے نکل سکیں گے۔ اگر آپ کا نتیجہ مثبت آيا تو آپ کو آئسولیشن میں جانا ہو گا۔

نارویجن ہیلتھ کیئر سروس کا جاری کردہ ویکسینیشن کا ثبوت درکار ہو گا۔

محفوظ یا ویکسینیشن مکمل

آپ کو "محفوظ" تب بیان کیا جاتا ہے جب:

  • آپ کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہو۔ نیچے تعریف پڑھیں
  • آپ کو ایک ڈوز لگی ہو اور یہ ڈوز آپ کو 3 سے 15 ہفتے پہلے لگی تھی۔ ضروری ہے کہ آپ پچھلے 10 دنوں میں ناروے میں رہے ہوں
  • آپ کو پچھلے چھ مہینوں میں COVID-19 بیماری ہو چکی ہو

آپ کی ویکسینیشن تب مکمل ہوتی ہے جب:

  • آپ کو ویکسین کی دو ڈویزیں لگی ہوں اور آخری ڈوز لگوائے ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ گزر چکا ہو
  • آپ کو COVID-19 ہو چکا ہو اور کرونا وائرس ویکسین کی ایک ڈوز لگوائے ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ گزر چکا ہو۔ ٹیسٹ کا مثبت نتیجہ آنے کے بعد آپ تین ہفتوں سے پہلے ویکسین کی ڈوز نہیں لگوا سکتے۔
  • آپ کو ایک ڈوز والی ویکسین (Janssen) لگی ہو جس کا اثر ویکسینیشن کے 3 ہفتے بعد شروع ہوتا ہے
  • آپ کو ویکسین کی ایک ڈوز لگ چکی ہو اور تین ہفتوں بعد آپ کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آيا ہو۔ اس صورت میں آپ کے آئسولیشن پوری کر چکنے کے بعد آپ کی ویکسینیشن مکمل تصور کی جائے گی چاہے آپ کو صرف ایک ڈوز لگی ہو۔

یہ اہم ہے کہ آپ کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر اپنا ٹیسٹ کروائیں چاہے آپ محفوظ ہوں یا آپ کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہو۔

سفری کوارنٹین

یورپ سے باہر کے ممالک اور یورپ کے سرخ ممالک سے ناروے آنے والے سب لوگوں کو  بنیادی اصول کے طور پر10 دن کوارنٹین میں رہنا ہو گا۔ کوارنٹین اس دن سےس شروع ہوتی ہیں جب آپ ناروے میں داخل ہوں۔ اسے سفری کوارنٹین کہا جاتا ہے۔

ہے۔ ان ممالک اور علاقوں کا پتہ چلانے کے لیے نارویجن انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی فہرست دیکھیں۔

یہ سفری کوارنٹین مکمل نہ کرنا ایک قابل سزا جرم ہے۔

جن لوگوں کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے اور جنہیں پچھلے چھ مہینوں میں کرونا بیماری رہ چکی ہے، انہیں سفری کوارنٹین سے استثنا ملتا ہے۔ استثنا لینے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کرونا وائرس کا مؤثر نارویجن یا یورپیئن سرٹیفکیٹ دکھائیں۔

کرونا وائرس سرٹیفکیٹ کے بارے میں مزید تفصیل پڑھیں (COVID-19 سرٹیفکیٹ کا لنک - helsenorge.no)

سفری کوارنٹین مکمل کرنے کے سلسلے میں الگ اصول اور استثنا پائے جاتے ہیں۔

سفری کوارنٹین کے اصولوں کے بارے میں مزید تفصیل پڑھیں۔

آئسولیشن کیسے کی جاتی ہے؟

دوسرے لوگوں کو انفیکشن سے بچانے کے لیے کوارنٹین سے بھی زیادہ سخت اقدام آئسولیشن ہے۔اگر آپ کو کرونا وائرس انفیکشن ہو گیا ہے یا اگر کوارنٹین میں رہنے کے دوران آپ میں علامات ظاہر ہو جائیں تو آپ کو آئسولیشن اختیار کرنی ہو گی۔

گھر میں آئسولیشن اختیار کرنے والوں کے لیے یہ اصول ہیں:

  • آپ کو تمام وقت گھر میں رہنا ہو گا اور آپ باہر نہیں جا سکتے لیکن آپ اپنے باغیچے یا اپنی بالکنی، ورانڈا یا ٹیرس میں جا سکتے ہیں۔
  • آپ دکانوں پر نہیں جا سکتے۔ اپنی ضرورت کی چیزوں کے لیے آپ کو دوسرے لوگوں سے مدد لینی ہو گی۔
  • آپ کو اپنے ساتھ رہنے والوں سے کم از کم 2 میٹر کا فاصلہ رکھنا ہو گا۔
  • جہاں ممکن ہو، آپ کا کمرہ اور غسلخانہ الگ ہونا چاہیے۔ غسلخانے میں آپ کے استعمال میں آنے والی چیزیں دوسروں کی چیزوں سے الگ ہوں اور آپ کا تولیہ بھی الگ ہونا ضروری ہے۔
  • آپ کو ہاتھوں کی صفائی اور کھانستے ہوئے حفظان صحت کا بہت خیال رکھنا ہو گا تاکہ گھر میں دوسرے لوگوں کو انفیکشن نہ لگے۔
  • گھر میں کثرت سے صفائی کریں، خاص طور پر ان جگہوں کی صفائی کریں جنہیں آپ لوگ اکثر چھوتے ہیں۔

آپ کن جگہوں پر آئسولیشن کر سکتے ہیں

 آپ کو اپنے گھر میں یا کسی اور مناسب قیامگاہ میں آئسولیشن میں رہنا ہو گا۔

یہ بلدیہ کی ذمہ داری ہے کہ آپ کے پاس آئسولیشن پوری کرنے کے لیے مناسب جگہ ہو۔ اگر بلدیہ کی رائے میں آپ کا گھر آئسولیشن کے لیے مناسب نہ ہو تو بلدیہ آپ کو ہوٹل یا کسی اور جگہ پر قیام کی پیشکش کرے گی۔ بلدیہ یہ فیصلہ بھی کر سکتی ہے کہ انفیکشن میں مبتلا شخص جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہے، وہ لوگ کسی اور جگہ رہیں گے۔ گھر سے باہر قیام کے اخراجات بلدیہ اٹھائے گی۔

آئسولیشن ختم کرنا

آپ علامات شروع ہونے کے بعد سے 10 دن پورے ہونے پر، اور اپنا بخار ختم ہوئے کم از کم 24 گھنٹے گزر جانے پر، آئسولیشن ختم کر سکتے ہیں۔ ہسپتال میں موجود افراد یا جن افراد کو مدافعتی نظام کمزور کرنے والا علاج مل رہا ہو، ان کے لیے زیادہ لمبی آئسولیشن لازمی ہو سکتی ہے۔

اگر آپ میں کرونا وائرس کی علامات نہ رہی ہوں تو آپ اس وقت کے بعد سے 10 دن گزر جانے پر آئسولیشن ختم کر سکتے ہیں جب آپ کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

یہاں اپنی زبان میں کوارنٹین اور آئسولیشن کے بارے میں مزید معلومات پڑھیں۔

 

کرونا وائرس کی ویکسین

ویکسین کرونا وائرس کی شدید بیماری سے محفوظ رکھتی ہے۔ نارویجن حکام کا مشورہ ہے کہ وہ سب لوگ ویکسین لگوائیں جن کے لیے یہ ممکن ہے۔ ویکسین مفت ہے اور ویکسین لگوانا لوگوں کی مرضی پر منحصر ہے۔

آپ کو کرونا وائرس کی ویکسین پیش کرنا اس بلدیہ کی ذمہ داری ہے جہاں آپ رہتے ہیں یا ٹھہرے ہوئے ہیں۔

ناروے میں ایک عرصے سے موجود سب لوگوں کو ویکسین لگوانے کا حق حاصل ہے، چاہے ان کی اقامتی حیثیت کچھ بھی ہو۔ نارویجن انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ (FHI) اب تمام حاملہ خواتین کو کرونا وائرس کی ویکسین لگوانے کا مشورہ دے رہا ہے۔ یہ فیصلہ بھی ہوا ہے کہ 16 اور 17 سال عمر کے بچوں کو کرونا وائرس ویکسین کی پیشکش ملے گی۔

اگر آپ کو ویکسین کی پیشکش نہیں ملی ہے تو اپنی بلدیہ سے رابطہ کریں۔ ناروے میں صحت کی خدمات حاصل کرتے ہوئے آپ کو ترجمان لینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

کرونا وائرس ویکسین کے متعلق معلوماتی وڈیوز کا لنک۔ یہاں آپ کو ان سوالوں کے جواب ملیں گے کہ ویکسین کیا ہوتی ہے، یہ کیسے اثر کرتی ہے اور ہم ویکسین کیوں لگواتے ہیں۔ 

یہ اہم ہے کہ ویکسین لگوانے کے باوجود آپ انفیکشن سے بچاؤ کے عام اصولوں پر عمل جاری رکھیں:

  • اگر آپ بیمار ہوں تو گھر میں رہیں
  • علامات ظاہر ہونے پر اپنا ٹیسٹ کروائیں
  • دوسرے لوگوں سے فاصلہ رکھیں
  • کثرت سے ہاتھ دھوتے رہیں

بیرون ملک جانا اور بیرون ملک سے آنا

  • غیر ملکیوں کے لیے ناروے میں داخل ہونے کے مواقع اب بھی محدود ہیں۔
  • وزارت خارجہ (Utenriksdepartementet) ملک سے باہر ایسے تمام سفروں سے باز رہنے کا مشورہ دیتی ہے جو نہایت ضروری نہیں ہیں۔ سفر کے سلسلے میں یہ عام ہدایت یورپیئن اکنامک ایریا، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور یورپیئن یونین کے ان تیسرے ممالک کی فہرست میں شامل دوسرے ملکوں کے لیے نہیں ہے جنہیں نارویجن انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ محفوظ سمجھتا ہے (جامنی ممالک)۔ یہاں سفر کے متعلق وزارت خارجہ کی ہدایات پڑھیں (regjeringen.no)۔
  • اگر آپ بیرون ملک سے آ رہے ہیں تو ناروے واپس آنے کے وقت آپ کو کئی تقاضے پورے کرنے ہوں گے: بیرون ملک سے ناروے میں آمد کی شرائط کے متعلق مزید پڑھیں۔
  • سفر کے اصول کثرت سے بدل رہے ہیں۔ سفر کرنے سے پہلے واجب اصولوں کے متعلق معلومات کر لیں، اپنے معمول کے رہائشی علاقے کے اصولوں کے متعلق بھی اور جہاں آپ کو جانا ہو، وہاں کے اصولوں کے متعلق بھی۔ یورپیئین ممالک میں واجب اصولوں کے لیے Re-open EU دیکھیں۔

اندرون ملک

اندرون ملک ہر طرح کا سفر کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ بیمار ہوں، کوارنٹین میں ہوں یا آئسولیشن میں ہوں تو آپ کو سفر نہیں کرنا چاہیے۔

آپ جس بلدیہ میں جا رہے ہوں، وہاں الگ مقامی اقدامات واجب ہو سکتے ہیں، اس لیے سفر سے پہلے اس بلدیہ کی ویب سائیٹ دیکھ لیں۔ اگر آپ کسی ایسی بلدیہ میں جا رہے ہیں جہاں اقدامات کم سخت ہیں تو آپ کو اپنی رہائشی بلدیہ کے لیے واجب مشوروں پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ ان افراد کے لیے نہیں کہا جا رہا جو محفوظ ہوں یا جن کی ویکسینیشن مکمل ہو (اوپر تعریف دیکھیں)۔

گھر میں ملاقاتیوں کی آمد

انفیکشن  ٹریسنگ کی ضرورت پڑنے پر یہ عمل آسان بنانے کے لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی تعداد محدود رکھیں جن کے ساتھ آپ وقت گزارتے ہیں اور جو آپ کے قریبی کانٹیکٹ ہیں۔

آپ جن لوگوں کے ساتھ گھر میں رہتے ہیں، ان کے علاوہ آپ کے گھر میں 20 سے زیادہ مہمان نہیں ہونے چاہیئں۔ کسی بھی صورت میں گھر میں اتنے زیادہ لوگ نہیں ہونے چاہیئں کہ آپس میں 1 میٹر فاصلہ نہ رکھا جا سکے۔

پرائیویٹ گھروں میں ملاقات سے تعلق رکھنے والے مشورے میں دو استثنا ہیں:

  • اگر سب مہمان ایک ہی گھر سے آ رہے ہوں تو اس گھر کے تمام لوگ آپ سے ملاقات کے لیے آ سکتے ہیں
  • تمام مہمان بارنے ہاگے یا پرائمری سکول کے ایک ہی درجے یا کلاس کے ہوں
  • محفوظ افراد جیسے وہ افراد جن کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہو، مہمانوں میں شمار نہیں ہوتے۔

آپ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ اگر ممکن ہو تو باہر کھلی جگہ پر ملیں۔

روبرو ملنے کی بجائے سماجی تعلق کے دوسرے طریقے تلاش کرنا اچھا ہو گا۔

اگر آپ زیادہ انفیکشن والے علاقے سے آ رہے ہوں تو تو آپ کو اپنی رہائشی بلدیہ کے لیے مشوروں پر عمل کرنا چاہیے۔

یہ اہم ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ موجودگی کے دوران انفیکشن سے بچاؤ کے عام اصولوں پر عمل کریں۔ بیماری کی صورت میں گھر میں رہیں، دوسروں سے فاصلہ رکھیں، کثرت سے ہاتھ دھوئیں اور  کھانستے ہوئے کہنی موڑ کر منہ کے آگے رکھیں۔

نجی میل جول اور پروگرام

جن پروگراموں اور نجی میل جول کے مواقع پر لوگ مختلف بلدیات سے آتے ہیں، انہیں ملتوی یا منسوخ کر دینا چاہیے۔

عوامی مقام (کرایے کا ہال یا مفت ملنے والا ہال) پر نجی میل جول کی صورت میں 100 سے زیادہ افراد کے اکٹھے ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ اصول عمارتوں کے اندر بھی اور کھلی جگہوں کے لیے بھی ہے۔

جن بلدیات میں انفیکشن زیادہ ہے، ان کے اصول اس سے زیادہ سخت ہو سکتے ہیں۔ مقامی اصولوں کے لیے اپنی بلدیہ کی ویب سائیٹ دیکھیں۔

عمارتوں کے اندر عوامی پروگرام

عوامی مقام پر عمارت کے اندر پروگرام میں، جہاں سیٹیں مقرّر اور بتائی گئی نہ ہوں، زیادہ سے زیادہ 400 افراد اکٹھے ہو سکتے ہیں جنہیں 200 افراد کے 2 گروپوں میں بانٹا گيا ہو۔

عوامی مقام پر عمارت کے اندر پروگرام میں، جہاں سیٹیں مقرّر اور بتائی گئی ہوں، زیادہ سے زیادہ 1000 افراد اکٹھے ہو سکتے ہیں جنہیں 500 افراد کے 2 گروپوں میں بانٹا گيا ہو۔

عوامی مقام پر عمارت کے اندر پروگرام کی مثالیں سینما، تھیٹر، سیمینار یا مذہبی رسوم ہو سکتی ہیں۔

۔مقرّر، بتائی گئی سیٹوں کا مطلب یہ ہے کہ حاضرین پورے پروگرام کے دوران کرسی، بنچ وغیرہ پر یا فرش پر ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہیں۔

کھلی جگہوں پر عوامی پروگرام

کھلی جگہ پر عوامی پروگرام میں جہاں مقرّر اور بتائی گئی سیٹیں نہ ہوں، 800 افراد کے شریک ہونے کی اجازت ہے جنہیں 200 افراد کے 2 گروپوں میں بانٹا گيا ہو۔

جہاں مقرّر اور بتائی گئی سیٹیں ہوں، وہاں 2000 تک افراد کے شریک ہونے کی اجازت ہے جنہیں 500 افراد کے 4 گروپوں میں بانٹا گیا ہو۔ مختلف گروپوں کے درمیان 2 میٹر فاصلہ رہنا ضروری ہے۔

ان پروگراموں کے لیے تعداد کی الگ پابندیاں واجب ہیں جن میں صرف ٹیسٹ کروانے والے یا مؤثر کرونا وائرس سرٹیفکیٹ رکھنے والے لوگ شامل ہوں، یہاں تفصیلات دیکھیں (نارویجن میں)۔

کچھ بلدیات میں پروگراموں اور سوشل میل جول کے لیے الگ مقامی اصول ہو سکتے ہیں۔ یہاں اپنی بلدیہ کی ویب سائیٹ دیکھیں۔

روزگار کے مقامات اور سکول

روزگار کے مقامات

اب زیادہ بڑی تعداد کو روزگار کے اداروں میں جا کر کام کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ آجر یقینی بنائے گا کہ روزگار کے ادارے میں انفیکشن سے بچاؤ کے اچھے اقدامات ہوں۔

چھوٹے بچوں کے نگہداشتی ادارے اور سکول

اب بلدیات انفیکشن کی مقامی صورتحال کی بنیاد پر خود طے کر سکتی ہیں کہ سکولوں اور چھوٹے بچوں کے نگہداشتی اداروں میں کونسے اقدامات  واجب ہوں گے۔

بچوں کو کب نگہداشتی ادارے یا سکول میں نہیں جانا چاہیے اور گھر میں رہنا چاہیے؟ یہاں پڑھیں کہ اپنے بچے کی بیماری کی صورت میں آپ کو کیا کرنا ہو گا۔

بالغ افراد اور نوجوانوں کا کب گھر میں رہنا ضروری ہے؟ یہاں پڑھیں کہ اپنی بیماری کی صورت میں آپ کو کیا کرنا ہو گا۔