ابارشن کروانے کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے؟ 

آپ خود ابارشن کی درخواست کر سکتی ہیں۔ آپ کو اپنے جی پی کے ریفرل (رقعے) کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آپ خود کسی ایسے ہسپتال سے رابطہ کر سکتی ہیں جس میں گائناکولوجیکل ڈیپارٹمنٹ ہو۔ آپ کو ہسپتال کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ ابارشن کیوں کرانا چاہتی ہیں، نہ ہی آپ سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ آپ سوچنے کے لیے وقت لیں۔  

جب آپ رابطہ کریں گی تو آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ کی آخری ماہواری کب شروع ہوئی تھی۔ اس سے حساب لگایا جاتا ہے کہ آپ کو حاملہ ہوئے ابھی کتنا عرصہ گزرا ہے اور آپ کو کتنی جلدی ہسپتال میں اپائنٹمنٹ ملنی چاہیے۔ 

کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ آپ کو ابارشن کروانے پر مجبور کرے۔ آپ کی اپنی مرضی کے بغیر ابارشن نہیں کیا جا سکتا۔  

ابارشن کروانا مفت ہے۔ 

ناروے میں رہنے والے ہر شخص کوابارشن ایکٹ (lovdata.no) کی رو سے ابارشن کروانے کا حق حاصل ہے۔ ناروے کے رہائشیوں کے لیے ابارشن کروانا مفت ہے۔ EU/EEA کے کارکن جو ناروے میں نہیں رہتے لیکن یہاں کام کرتے ہیں، عام طور پر انہیں بھی ابارشن پر اٹھنے والے اخراجات واپس مل سکتے ہیں۔ ناروے میں غیر ملکی افراد کے نگہداشتِ صحت کے اخراجات کے حقوق کے متعلق مزید رہنمائی دیکھیں۔ 

ابارشن کیسے کیا جاتا ہے؟ 

آپ کو ہسپتال میں معائنے کے لیے اپائنٹمنٹ پر بلایا جائے گا۔ وہاں آپ ڈاکٹر، نرس یا دائی سے ملیں گی۔ معائنے کے دوران وہ آپ کا بلڈ پریشر چیک کریں گے، آپ کے دل اور پھیپھڑوں کی آواز سنیں گے، خون ٹیسٹ کریں گے اور گائناکولوجیکل معائنہ کریں گے۔ وہ الٹراساؤنڈ سکین بھی کرتے ہیں تاکہ آپ کے حمل کی مدت یقینی طور پر معلوم کی جا سکے۔ حمل کی مدت سے اس پر اثر پڑتا ہے کہ آیا آپ ابارشن کے دوران اپنے گھر میں رہ سکتی ہیں یا ہسپتال میں ابارشن ضروری ہے۔ آپ کو الٹراساؤنڈ سکین کو خود دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

حمل کے شروع میں حمل کو ختم کرنے کے دو طریقے ہیں: سرجیکل ابارشن (آپریشن) اور میڈیکل (دوائیوں سے) ابارشن۔ آج کل حمل کے بارہویں ہفتے سے پہلے ہونے والے 90% سے زیادہ ابارشن دوائیوں سے کیے جاتے ہیں۔   

حمل کے بارہویں ہفتے کے اختتام تک آپ ابارشن کے طریقے کا فیصلہ کرنے میں شامل ہو سکتی ہیں۔ حمل کے 12 ہفتے پورے ہونے کے بعد صرف دوائیوں سے ابارشن کی پیشکش کی جاتی ہے۔ابارشن کے طریقوں کے بارے میں مزید پڑھیں۔ 

عملۂ صحت آپ کو بتائے گا کہ ابارشن کیسے کیا جاتا ہے اور کیا پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ اپنا حمل پورا کرنے کا فیصلہ کریں تو آپ کو آئندہ کے لیے وہ معلومات اور رہنمائی ملے گی جس کی آپ کو ضرورت ہے اور یہ آپ کا حق بھی ہے۔  

عملۂ صحت کے لیے لازمی ہے کہ وہ صرف معلومات اور رہنمائی دیں، اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیے بغیر۔  

آپ ابارشن کا عمل شروع ہونے سے پہلے کسی بھی وقت ارادہ بدل سکتی ہیں۔ 

گھر پر ابارشن 

حمل کے دسویں ہفتے کے اختتام تک آپ ابارشن کے دوران گھر پر رہ سکتی ہیں۔ گھر پر ابارشن کے لیے آپ کو پہلے ایک دوائی دی جائے گی جو حمل کی مزید نشوونما کو روکتی ہے۔ یہ گولی ہسپتال میں لی جاتی ہے۔ آپ دو دن بعد ہسپتال واپس جا کر ایک اور دوائی لیں گی جو جنین کو آپ کے جسم سے نکالنے میں مدد دے گی۔ آپ کو درد کم کرنے والی دوائیاں بھی ملیں گی جو آپ ضرورت پڑنے پر لے سکتی ہیں۔ پھر آپ گھر چلی جاتی ہیں اور ابارشن کا عمل گھر پر پورا ہوتا ہے۔  

اگر آپ کے لیے کسی مددگار کو اپنے ساتھ رکھنا ممکن نہیں ہے تو آپ کو ابارشن کے دوران گھر پر نہیں رہنا چاہیے۔ ابارشن کروانا جذباتی لحاظ سے مشکل ہو سکتا ہے، اور کچھ خواتین کو شدید درد ہوتا ہے۔  

ہسپتال میں ابارشن 

اگر آپ ہسپتال میں ابارشن کروانا چاہیں تو یہ آپ کا حق ہے، قطع نظر اس کے کہ آپ کے حمل کی مدت کیا ہے۔ حمل کے دسویں ہفتے کے بعد گھر پر ابارشن کی پیشکش نہیں کی جاتی۔  

ہسپتال میں دوائیوں سے ابارشن اسی طرح ہوتا ہے جیسے گھر میں ہوتا ہے مگر آپ ابارشن مکمل ہو جانے تک ہسپتال میں رہتی ہیں۔  

آپ کے حمل کی مدت سے اس پر اثر پڑ سکتا ہے کہ آپ ابارشن کے لیے ہسپتال کے کس شعبے میں داخل ہوں گی۔ کچھ ہسپتالوں میں ابارشن پولی کلینک (آؤٹ پیشنٹ کلینک) میں ڈے پروسیجر کے طور پر ہوتا ہے جبکہ کچھ ہسپتالوں میں آپ کو گائناکولوجی وارڈ میں داخل کیا جاتا ہے۔ حمل کی مدت زیادہ ہونے پر ابارشن کے لیے درد کم کرنے کے خاص طریقوں اور مہارت کی ضرورت ہو سکتی ہے لہذا ابارشن میٹرنٹی وارڈ میں کیا جا سکتا ہے۔  

سرجیکل ابارشن میں ڈاکٹر فرج (وجائنا) کے راستے رحم کو اندر سے کھرچ کر صفائی (کیوریٹیج) کرتا ہے۔ آپ کا پروسیجر اینستھیزیا (بیہوشی کی دوائی) کے ساتھ ہوتا ہے۔ 

ابارشن کے بعد 

جب تک آپ کو خون آتا رہے، آپ کو نچلے پوشیدہ اعضا میں سوزش کے خطرے کی وجہ سے باتھ ٹب، سمندر یا سوئمنگ پول میں نہیں نہانا چاہیے۔ آپ کو ٹیمپون استعمال نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کنڈوم کے بغیر سیکس (جنسی فعل) کرنی چاہیے۔ 

آپ کے جسم کو حمل ختم ہونے پر ایڈجسٹ کرنے میں کچھ دن لگتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ متلی، چھاتیوں میں تناؤ اور دوسری علامات پروسیجر کے بعد ایک ہفتے تک جاری رہ سکتی ہیں۔  حمل کی مدت جتنی زیادہ ہو، یہ علامات اتنی ہی شدید اور طویل ہو سکتی ہیں۔  اگر ابارشن کے بعد آپ کی علامات دور نہ ہوں تو اپنے جی پی یا ہسپتال سے رابطہ کریں تاکہ چیک کیا جائے کہ کہیں آپ ابھی بھی حاملہ تو نہیں ہیں۔ 

ابارشن کے بعد حمل روکنے کی تدابیر 

آپ ابارشن کے بعد بہت جلد دوبارہ حاملہ ہو سکتی ہیں۔ لہذا ابارشن کے بعد حمل روکنے کی تدابیر (برتھ کنٹرول) کی ضرورت پر غور کریں  اور حسب ضرورت یہ بھی سوچیں کہ آپ حمل سے بچنے کا کونسا طریقہ استعمال کرنا چاہیں گی۔. ہسپتال میں ابارشن سے پہلے کیے جانے والے معائنے کے وقت آپ کو حمل روکنے کی تدابیر کے متعلق رہنمائی اور مشورہ ملے گا۔ 

کیا آپ کی عمر 16 سال سے کم ہے؟ 

اگر آپ ابارشن کروانے پر غور کر رہی ہیں تو آپ کو اپنی عمر اور شعور کے لحاظ سے موزوں معلومات اور رہنمائی لینے کا حق حاصل ہے۔ آپ ابارشن کے سلسلے میں سیدھا ہسپتال سے رابطہ کر سکتی ہیں۔ آپ ہسپتال سے رابطے میں مدد کے لیے پبلک ہیلتھ نرس یا جی پی سے بھی بات کر سکتی ہیں۔  

اگر آپ کی عمر 16 سال سے کم ہے اور آپ ابارشن کروانا چاہتی ہیں تو عام طور پر ہیلتھ سروس آپ کے والدین یا سرپرستانہ ذمہ داری رکھنے والے دوسرے افراد کو اس کے بارے میں معلومات دے گی۔ بہت سے لوگوں کے لیے والدین کا سہارا اہم ہوگا۔ اگر آپ نہیں چاہتیں کہ آپ کے والدین کو یہ معلومات ملیں، اور آپ کے پاس کوئی معقول وجہ ہے، تو آپ کی خواہش کا احترام کیا جائے گا۔  

ابارشن کروانا یا نہ کروانا آپ کا یعنی حاملہ خاتون کا اپنا فیصلہ ہے۔ اگر آپ کی عمر 16 سال سے کم ہو تو بھی یہ فیصلہ صرف آپ کر سکتی ہیں۔  

Abort etter uke 18

اگر آپ حمل کے اٹھارہویں ہفتے (17 ہفتے اور 6 دن) پورے ہونے کے بعد ابارشن کروانا چاہتی ہوں تو آپ کو ابارشن بورڈ میں درخواست دینی ہوگی۔ بورڈ درخواست پر کارروائی کرتا ہے اور قانون میں درج بعض بنیادوں (شرائط) کے مطابق فیصلہ کرتا ہے کہ آپ ابارشن کروا سکتی ہیں یا نہیں۔ ابارشن کی بنیادیں ابارشن ایکٹ میں درج ہیں۔ 

1.6.25 کو آنے والے ابارشن ایکٹ کے نئے پہلوؤں کے متعلق مزید معلومات یہاں موجود ہیں (Helsedirektoratet.no)۔ 

ڈاکٹر آپ کے ساتھ مل کر وجہ لکھے گا کہ آپ حمل کیوں ختم کرنا چاہتی ہیں۔ آپ خود بھی وجہ لکھ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر ابارشن کی وجہ اور درخواست آپ کے ہیلتھ ریجن میں ابارشن بورڈ کو بھیجتا ہے۔  

ابارشن بورڈز کی فہرست (Helsedirektoratet.no) 

بہت سے ہسپتالوں میں آپ کو بورڈ کے ساتھ میٹنگ سے پہلے اور بعد میں سوشل ورکر کے ساتھ بات چیت کی پیشکش کی جائے گی۔ اگر آپ کو پیشکش نہ ملے تو آپ خود اس بات چیت کی درخواست کر سکتی ہیں۔ 

درخواست پر کارروائی کیسے کی جاتی ہے؟ 

ابارشن کی درخواست پر کارروائی ابارشن بورڈ کرتا ہے جس میں ایک ڈاکٹر، ایک صحت یا سوشل ورک کی کوالیفیکیشن رکھنے والا رکن اور ایک قانون دان ہوتا ہے۔ اگر آپ بورڈ میں پیش ہونا چاہیں تو یہ آپ کا حق ہے لیکن آپ کے لیے پیش ہونا لازمی نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے بورڈ کے ساتھ وڈیو میٹنگ کرنا مناسب ہو سکتا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میٹنگ میں کسی کو اپنے ساتھ لا سکتی ہیں۔ آپ اور آپ کے ساتھ آنے والے شخص کو بورڈ سے میٹنگ کے سفری اخراجات حکومت سے لینے کا حق ہے۔  

بورڈ میٹنگ میں آپ مزید بتا سکتی ہیں کہ آپ حمل کیوں ختم کرنا چاہتی ہیں۔ ابارشن بورڈ صورتحال کے متعلق آپ کے خیالات کو بہت اہمیت دے گا۔ 

اگر آپ کو انکار کر دیا جائے تو کیس خود بخود ابارشن اپیلز بورڈ کو حتمی کارروائی کے لیے بھیج دیا جائے گا۔ اگر آپ ابارشن اپیلز بورڈ کے سامنے پیش ہونا چاہیں تو یہ بھی آپ کا حق ہے۔ 

کیا آپ کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہے؟ 

کچھ خواتین کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ حمل جاری رکھا جائے یا ابارشن کروایا جائے۔  ابارشن کے بعد خواتین کا ردّعمل بھی مختلف ہو سکتا ہے، چاہے ابارشن حمل کے شروع میں ہو یا دیر سے ہو۔ ہلکا پھلکا محسوس کرنا، غمگین ہونا، یا ملے جلے جذبات محسوس کرنا عام ہے۔ کسی سے بات کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ آپ کے بھروسے کے لوگ بات کرنے کے لیے اچھے ہو سکتے ہیں۔ 

اگر آپ کو کسی اور سے بات کرنے کی ضرورت ہو تو آپ Amathea سے رابطہ کر سکتی ہیں جو سرکاری فنڈنگ سے چلنے والی، مفت کاؤنسلنگ (رہنمائی) سروس ہے۔ 

آپ اپنے جی پی، ہیلتھ سٹیشن، ہسپتال، فیملی کاؤنسلنگ آفس یا سوشل سروسز آفس سے بھی رابطہ کر سکتی ہیں۔ یہاں آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جو ابارشن سے پہلے اور بعد میں آپ کو معلومات دے سکتے ہیں۔ 

23 32 70 00 پر Veiledning Helsenorge بھی آپ کو معلومات دے سکتی ہے کہ آپ ابارشن کے بارے میں کس سے بات کر سکتی ہیں۔   

ابارشن کروانے والی سب خواتین کو بعد میں خبرگیری کے لیے بات چیت کا حق حاصل ہے۔ آپ کے رہائشی پتے کے لحاظ سے یہ مختلف ہو سکتا ہے کہ یہ بات چیت کون پیش کرتا ہے۔ ہسپتال، آپ کا جی پی یا ہیلتھ سٹیشن یہ بات چیت پیش کر سکتا ہے۔ اچھا ہو گا کہ آپ ابارشن سے پہلے ہونے والے معائنے کے وقت اس بارے میں پوچھ لیں۔ سب خواتین کو بعد میں خبرگیری کی ضرورت نہیں ہوتی لہذا یہ پیشکش لینا آپ کی مرضی پر منحصر ہے۔ 

سب لوگ رازداری کے پابند ہیں۔ 

Helsenorge.no کی آٹومیٹک چیٹ سروس بھی دن رات 24 گھنٹے دستیاب ہے۔ 

یہ مواد فراہم کرنے والے ہیں Helsedirektoratet

آخری تبدیلیوں کی تاریخ 30. مئی 2025