پہلے 12 ہفتوں میں حمل کو ختم کرنے کے دو طریقے ہیں: سرجیکل ابارشن (آپریشن) اور میڈیکل (دوائیوں سے) ابارشن۔ 

آج کل 90٪ سے زیادہ ابارشن دوائیوں سے کیے جاتے ہیں۔  

آپ حمل کے بارہویں ہفتے کے اختتام تک اپنے ابارشن کے طریقے کے فیصلے میں شامل ہو سکتی ہیں، لیکن اس مدت کے بعد ابارشن صرف دوائیوں سے کیا جاتا ہے۔ 

اگر ایک سے زیادہ جنین (رحم میں بننے والے بچے) موجود ہوں تو ان کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ بھی اٹھارہویں ہفتے تک خاتون خود کر سکتی ہے، سوائے اس کے کہ طبی وجوہات سے یہ ممکن نہ ہو۔ جنینوں کی تعداد میں کمی ایک الگ طریقے سے کی جاتی ہے۔  

دوائیوں سے ابارشن 

دوائیوں سے ابارشن کے لیے آپ دو قسم کی گولیاں لیں گی۔ پہلی گولی (mifepristone) آپ کو ہسپتال میں ملتی ہے۔ یہ گولی رحم (بچہ دانی) کو متاثر کر کے حمل کو روک دیتی ہے۔ یہ گولی لینے کے بعد ابارشن کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ 

گولی لینے کے بعد آپ گھر چلی جاتی ہیں۔ آپ کو متلی ہو سکتی ہے اور اگلے چند دنوں تک کچھ خون بہنے اور پیٹ میں درد کے مسائل ہو سکتے ہیں لیکن ایسا سب کے ساتھ نہیں ہوتا۔ کچھ خواتین کا ابارشن پہلی گولی لینے کے بعد ہی ہو جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو ہسپتال سے رابطہ کریں۔ 

ابارشن مکمل کرنے کے لیے آپ دوسری دوائی (misoprostol) ایک سے دو دن ٹھہر کر لیں گی۔ یہ گولیاں فرج (وجائنا) میں داخل کی جاتی ہیں یا زبان کے نیچے رکھی جاتی ہیں۔    

گولیوں کے فعال اجزاء رحم کے سکڑنے کا سبب بنتے ہیں۔ آپ کو شدید درد ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب رحم میں سے حمل کا مواد باہر نکل رہا ہو۔ آپ کو درد کی دوائیاں دی جائیں گی۔ آپ کو تیار رہنا چاہیے کہ آپ کو ماہواری کے خون سے زیادہ خون آ سکتا ہے۔ اس خون میں لوتھڑے ہونا نارمل ہے۔   

اگر گولیاں لینے کے 4-6 گھنٹے بعد آپ کا ابارشن  نہ ہو تو آپ کو ابارشن ہو جانے تک ہر تین گھنٹے بعد گولیوں کی ایک نئی ڈوز دی جائے گی۔ آپ جو چاہیں، کھا پی سکتی ہیں۔ چلتے پھرتے رہنا اچھا ہو گا کیونکہ اس طرح ابارشن کا عمل تیز ہو سکتا ہے اور درد بھی کم ہو سکتا ہے۔ 

کیا ابارشن گھر پر یا ہسپتال میں مکمل کیا جائے؟ 

اگر حمل 10 ہفتوں سے کم کا ہو اور آپ صحت مند اور 18 سال سے زیادہ عمر کی ہوں تو آپ گھر پر ابارشن مکمل کرنے کا انتخاب کر سکتی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ابارشن والے دن ایک بالغ شخص آپ کے پاس رہے۔  

حمل کے شروع میں ہی ابارشن کروانے کی صورت میں یہ عام ہے کہ گولیاں لینے کے بعد 4-6 گھنٹوں میں ابارشن ہو جاتا ہے۔ 

گھر میں مکمل ہونے والے ابارشن بھی اسی طرح ہوتے ہیں جیسے ہسپتال میں ہوتے ہیں۔ آپ کو اس بارے میں معلومات ملیں گی کہ ہسپتال سے کیسے رابطہ کرنا ہے اور آپ کو کب رابطہ کرنا چاہیے۔ 

ہسپتال میں ابارشن مکمل کرنے والی زیادہ تر خواتین اسی دن ہسپتال سے گھر چلی جاتی ہیں۔ بعض صورتوں میں اگلے دن تک ہسپتال میں رہنا ضروری ہوتا ہے۔ 

سرجیکل ابارشن 

اگر آپ کا ابارشن سرجیکل طریقے سے ہونا ہو تو بھی دوائیوں سے ابارشن کی طرح پہلے ہسپتال میں آپ کا معائنہ ہو گا، اور تب آپ کو سرجری پروسیجر کی تاریخ اور وقت بتایا جائے گا۔ پروسیجر سے پہلے، صبح آپ کو فرج (وجائنا) میں رکھنے کے لیے 3 گولیاں (misoprostol) دی جائیں گی کیونکہ یہ گولیاں رحم کو نرم کرتی ہیں۔ ان گولیوں کی وجہ سے کبھی کبھار تھوڑا سا خون آ سکتا ہے اور ہلکا درد ہو سکتا ہے۔  

سرجری پروسیجر والے دن آپ کو خالی پیٹ ہسپتال آنا ہوگا۔ خالی پیٹ کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے پچھلے 6 گھنٹوں میں نہ کچھ کھایا ہو، نہ پیا ہو اور نہ ہی سگرٹ نوشی کی ہو۔ 

یہ ایک سرجیکل پروسیجر ہے جس کے لیے آپ کو عام طور پر اینیستھیزیا (بیہوشی کی دوا) دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر فرج کے راستے رحم کو اندر سے کھرچ کر صفائی (کیوریٹیج) کرتا ہے۔ 

اس پروسیجر میں تقریباً 10 منٹ لگتے ہیں۔ اس کے بعد عام طور پر 1-2 گھنٹے ہسپتال میں گزار کر خواتین گھر جا سکتی ہیں۔ اگر آپ کو پروسیجر کے بعد درد ہو تو آپ کو درد کم کرنے والی دوائیاں پیش کی جائیں گی۔ 

طبی وجوہات اور سرجیکل پروسیجر کے خطرات کے پیش نظر حمل کے بارہویں ہفتے کے بعد صرف دوائیوں سے ابارشن کی پیشکش کی جاتی ہے۔ 

جنینوں کی تعداد کم کرنا 

جنینوں کی تعداد کم کرنے کا پروسیجر ایسے حمل میں کیا جا سکتا ہے جس میں دو یا دو سے زیادہ جنین ہوں اور ان میں سے کچھ کی نشوونما روک دی جائے جبکہ ایک یا ایک سے زیادہ جنین زندہ رہیں۔ اس کے لیے جنین کے دل میں پوٹاشیم کلورائیڈ کا انجیکشن لگا کر دھڑکن بند کر دی جاتی ہے۔ 

جنینوں کی تعداد کم کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ باقی جنین یا جنینوں کے ساتھ حمل جاری رہے، اور متوقع تاریخ کے قریب سے قریب تر بچے یا بچوں کی پیدائش ہو۔  

جنینوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ بھی خواتین حمل کے اٹھارہویں ہفتے تک خود کر سکتی ہیں، سوائے اس کے کہ طبی وجوہات سے یہ پروسیجر ممکن نہ ہو۔ مثال کے طور پر، اس صورت میں جنینوں کی تعداد کم نہیں کی جا سکتی کہ جنین ایک ہی پلاسینٹا سے جڑے ہوں۔  

ہفتہ 18 کے بعد حمل گرانا 

اگر آپ حمل کے 18 ہفتے (17 ہفتے اور 6 دن) پورے ہو جانے کے بعد حمل گرانا چاہتی ہوں تو آپ کو ابارشن کے لیے ایک بورڈ میں درخواست دینی ہوگی۔ بورڈ درخواست پر کارروائی کرتا ہے اور قانون میں درج بعض بنیادوں (شرائط) کے مطابق فیصلہ کرتا ہے کہ آپ ابارشن کروا سکتی ہیں یا نہیں۔ ابارشن کی بنیادیں ابارشن ایکٹ میں درج ہیں۔ 

آپ یہاں 18 ہفتوں کے بعد ابارشن کے بارے میں مزید پڑھ سکتی ہیں۔ 

ابارشن کے بعد 

کچھ خواتین کو ابارشن کے بعد زیادہ خون آنے اور پیٹ میں درد کا تجربہ ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر خواتین کو آنے والا خون 2-3 ہفتوں میں کم ہوتا جائے گا۔  

عام طور پر سرجیکل ابارشن کے ضمنی اثرات بہت کم ہوتے ہیں اور زیادہ تر پروسیجرز غیر پیچیدہ ہوتے ہیں۔ زیادہ عام شکایات کا تعلق اینیستھیزیا (بے ہوشی کی دوائی) سے ہوتا ہے جیسے متلی اور خالی الٹیاں۔ شاذ و نادر رحم، مثانے یا آنتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ 

آپ کو میڈیکل ابارشن اور سرجیکل ابارشن دونوں کے بعد دو ہفتوں تک، یا جب تک آپ کو خون آتا رہے، سیکس (جنسی فعل) نہیں کرنی چاہیے۔ جب تک آپ کو خون آتا رہے، آپ کو انفیکشن کے خطرے کی وجہ سے پیڈ استعمال کرنا چاہیے، ٹیمپون استعمال نہ کریں۔ 

ابارشن کے بعد مختلف اور شاید غیر متوقع جذبات محسوس کرنا نارمل ہے۔ یہ کسی حد تک جسم میں ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔  

اگر آپ چاہیں تو آپ ابارشن کے بعد بیماری کی چھٹیاں لے سکتی ہیں۔ 

ابارشن کے بعد خبرگیری 

عام طور پر ابارشن کے بعد کوئی طبی معائنہ نہیں ہوتا۔ اگر آپ چاہیں تو آپ کے جی پی یا گائناکالوجسٹ معائنہ کر سکتے ہیں۔  اگر آپ معائنہ کروانا چاہتی ہوں تو آپ خود ملاقات کا وقت لے سکتی ہیں۔ 

ابارشن کروانے والی سب خواتین کو بعد میں خبرگیری کے لیے بات چیت کا حق حاصل ہے۔ آپ کے رہائشی پتے کے لحاظ سے یہ مختلف ہو سکتا ہے کہ یہ بات چیت کون پیش کرتا ہے۔ ہسپتال، آپ کا جی پی یا ہیلتھ سٹیشن اس بات چیت کی پیشکش کر سکتا ہے۔ اچھا ہو گا کہ آپ ابارشن سے پہلے اپنے معائنے کے وقت اس بارے میں پوچھ لیں۔ سب خواتین کو بعد میں خبرگیری کی ضرورت نہیں ہوتی لہذا یہ ایک ایسی پیشکش ہے جو لینا آپ کی مرضی پر منحصر ہے۔  

پیچیدگیوں جیسے بخار، درد میں اضافے یا بہت زیادہ خون آنے کی صورت میں آپ کو ہسپتال سے رابطہ کرنا چاہیے۔ 

چار ہفتوں کے بعد آپ کو حمل کا ٹیسٹ کرانا چاہیے تاکہ یقین سے پتہ چل جائے کہ حمل ختم ہو گیا ہے۔ اگر آپ کی ماہواری 6 ہفتوں کے بعد واپس نہ آئے تو آپ کو یہ پتہ کرنے کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے کہ کیا آپ ابھی بھی حاملہ ہیں۔ ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے کہ ابارشن ناکام رہے۔ 

کیا آپ کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہے؟ 

حمل کو مکمل کرنے یا ختم کرنے کا فیصلہ ایک مشکل فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اپنے بھروسے کے لوگوں سے بات کرنا اچھا ہو سکتا ہے۔  

اگر آپ کو کسی اور سے بات کرنے کی ضرورت ہو تو آپ Amathea سے رابطہ کر سکتی ہیں جو سرکاری فنڈنگ سے چلنے والی مفت، کاؤنسلنگ (رہنمائی) سروس ہے۔ 

آپ اپنے جی پی، ہیلتھ سٹیشن، ہسپتال، فیملی کاؤنسلنگ آفس یا سوشل سروسز آفس سے بھی رابطہ کر سکتی ہیں۔ یہاں آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جوابارشن کروانے سے پہلے اور بعد میں بھی آپ کو معلومات دے سکتے ہیں۔ 

یہ سب لوگ رازداری کے پابند ہیں۔ 

یہ مواد فراہم کرنے والے ہیں Helsedirektoratet

آخری تبدیلیوں کی تاریخ 30. مئی 2025