ماہ رمضان اور صحت کے بارے میں مشورے

بعض بیماریوں اور طبی کیفیات کی صورت میں آپ کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ یہاں کچھ مشورے دیے جا رہے ہیں جن سے آپ کو ماہ رمضان بحفاظت گزارنے میں مدد ملے گی۔

Bønnekjede

روزے

بہت سے مسلمان ماہ رمضان میں روزے رکھنا چاہتے ہیں۔ اکثر صحتمند بالغ افراد ایک محدود عرصے تک روزے بخوبی برداشت ڷیةشت کر سی ہ وہ مغرب کے وقت سے لے کر طلوع صبح تک غذائیت سے بھرپور خوراممااور گابحماور د یں استعمال کرتے ہوں۔

بچوں اور نفسیاتی مریضوں کو روزے سے چھوٹ حاصل ہے۔ ان لوگوں کے لیے بھی چھوٹ ہے جن کی بیماری روزے رکھنے سے بگڑ یی بگڑ سکت عرصہ لمبا ہو سکتا ہے۔ آپ کو زندگی کے بعض ادوار میں روزے ملتوی کر دینے یا روزے نہ رکڹانبب ہو سکتا ہے (جیسے بڑھاپا، حمل اور ماں کا دودھ پلانا) اور بعض دوسملا چوسرۺ حمل اور ماں کا دودھ پلانا ھوٹ حاصل ہوتی ہے (جیسے لمبا سفر، سخت جسمانی کام، فعال ملٹری سروس اور شدید مشکلات سے نبٹتے ہوئے)۔

بیماری اور دوائیوں کا استعمال

اگر آپ بیمار ہوں اور روزے سے آپ کی حالت بگڑ سکتی ہو یا بیماری کا عرصہ لمبا ہو سکتا ہو تو آپ رمضان کے روزے چھوڑ سکتے ہیں۔ ناک اور گلے کے راستے دوائی لینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے لیکن اگر ضروری دوائیاں چھوڑ دینے کی وجہ سے آپ کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہو تو آپ کو روزے بعد میں رکھ لینے یا روزے چھوڑ دینے کی اجازت ہوتی ہے۔

اس لیے اگر آپ بیمار ہوں یا زندگی کے لیے ضروری دوائیاں استعمال کرتے ہوں تو روزہ نہ رکھیں۔ یہ بات ہائی بلڈ پریشر، ذہنی بیماری، ذیابیطس، دمے، پھیپھڑوں اور نظام تنفّس کی مزمن بیماری، ایچ آئی وی اور دوسری بہت سی دوسری کیفیات کے سلسلے میں درست ہے۔

 یہ ان معمّر افراد کے لیے بھی درست ہے جن کے لیے روزہ پورا کرنا مشکل ہو مثال کے طور پر اگر ان کا بلڈ پریشر گر سکتا ہو اور انہیں سارا دن پانی نہ پینے کی وجہ سے چکر آ سکتے ہوں۔

اگر پھر بھی آپ روزے رکھنا چاہتے ہوں تو اپنے ڈاکٹر سے بات کریں

معدے کے السر، تیزابیت، ورم معدہ اور ہرنیا کے مریضوں کو بھی اگر روزے رکھنے کی خواہش ہو تو انہیں پہلے اپنے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔

ذیابیطس اور ماہ رمضان

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے روزہ رکھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ جب آپ کو کوئی ایسا طبی مسئلہ ہو جو روزہ رکھنے کی صورت میں بگڑ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ آپ روزے چھوڑ دیں۔

ذیابیطس کے باوجود روزہ رکھنا ممکن ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے خاص کوشش اور اچھی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں آپ کو پہلے اپنے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔

اگر آپ ذیابیطس ہونے کے باوجود روزے رکھنے کا انتخاب کریں ض تو ذیاب ور پر ماہ رمضان میں اپنی صحت کو نقصان سے بچانے کے لیے آپ کو کچھو کار ے۔ یہ مشورے نارویجن ڈائبیٹیز ایسوسی ایشن اور اسلامک کونسل کے باسوسی مشن اور اسلامک کونسل کے باسمے مشو گئے ہیں:

  • اگر آپ اس بیماری کے باوجود روزے رکھنے کا انتخاب کریں تو اس کے لییی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے
  • آپ کو باقاعدگی سے اپنے خون میں شوگر چیک کرنا ہو گی – اس سے روزوٹ ن
  • ایسی غذائیں اور مشروبات چنیں جن سے افطار کے وقت خون میں شوبات چے افطار کے وقت خون میں شوبات چے افطار

اگر آپ خون میں شوگر گھٹانے والی دوائیاں لیتے ہیں اور روزے کے دوران گے دوران ب یادہ گر جائے تو آپ کو روزہ توڑنا ہو گا۔

نارویجن ڈائبیٹیز ایسوسی ایشن (diabetes.no) سے آپ کو ماہ رمضان کی منصوببی بی منصوبی ب شورے بھی مل سکتے ہیں۔

 ماہ رمضان میں حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں

اگر آپ حاملہ ہیں یا دودھ پلاتی ہیں تو آپ کو روزہ نہیں رکھنا چاہ ان صورتوں میں آپ کو بچے کی پیدائش کے بعد یا دودھ پلانا چؾوڑوے کر لینے چاہیئں۔ بچے کے لیے بہترین یہ ہے کہ ماں غذائیت سے بھرپور خوراک کؾائواد ک نی پیئے۔ شائع شدہ تحقیقی مطالعات سے یہ سامنے نہیں آیا ہےکہ رمضان ھے روزے یں بچے پر شدید نقصان دہ اثرات ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں ایلسا ہ ہم حاملہ ماں کے روزے رکھنے کو محفوظ کہیں۔

اگر پھر بھی آپ روزے رکھنے کا انتخاب کریں تو آپ کو مغرب کے وقتل سے وقتل سے ک غذائیت سے بھرپور خوراک کھانے اور کافی پانی پینے کا خیال رکھنا چیال رکھنا چ دن کے وقت غیر ضروری جسمانی سرگرمی نہ کریں۔ اگر آپ کو پیٹ میں بچے کی حرکت میں کمی محسوس ہو یا آپ کو چةر آئل آپ کو متلی ہو یا الٹی آئے تو آپ کو روزہ توڑ دینا چاہیے۔ اگر آپ کا روزے رکھنے کا ارادہ ہو تو پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں حمل کے دوران اچھی غذائی عادات کے بارے میں یہاں مزید پڑھیں۔

روزے کے دوران ان علامات پر نظر رکھنی چاہیے

روزے کے دوران آپ کو مشکل محسوس ہو سکتی ہے۔ تاہم کچھ علامات پر آپ کو خاص طور پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ ییونکہ ی۩ا بیر تے ہیں۔

  • اگر آپ کو تھکن یا چکر آنے کا مسئلہ ہو تو یہ بلڈپریشر میں کمی کوا ایہ بلڈپریشر میں کمی کوا اگر ر آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
  • اگر آپ کو متلی ہو، چکر آئیں اور دھیان برقرار رکھنے میں مش۩ل ہو تاساب ہو سکتا ہے کہ آپ کو پانی کی کمی ہو گئی ہے اور آپ نے کافی پانی نی۔ اس لیے مغرب کے وقت سے لے کر طلوع صبح تک خوب پانی پیئیں۔
  • رمضان میں کم پانی پینے سے گردے میں پتھری بننے کا خطرہ بھی بڑھت
  • روزوں کے دوران قبض، ہاضمے کی خرابی اور تیزابیت ہو جانا عام ہے۔ ان مسائل سے بچنے کے لیے یہ اہم ہے کہ جن اوقات میں کھانے پینے ةوی کھانے پینے ةآت بخش اور درست طور پر کھائیں۔
  • کئی لوگوں کو روزے میں سر میں درد اور مائیگرین ہوتی ہے۔ اگر آپ کو سر میں زیادہ درد ہو تو آپ کو اپنے ڈاکٹر سے رابطہ ڒہرنا چ
  • اگر آپ کو روزے کے دوران ورزش کرنی ہو تو مشورہ ہے کہ دن کے اختتام کی کریں یعنی روزہ کھلنے سے تھوڑا وقت پہلے ہی تاکہ پھر آپ جلد ڌوھا ڌ

یہ مواد فراہم کرنے والے ہیں Helsedirektoratet

آخری تبدیلیوں کی تاریخ جمعہ، 2 فروری، 2024